Posts

*لاک ڈاؤن میں رمضان المبارک کی آمد* *✍️ عاصم طاہر اعظمی* *+91 7860601011* *asimtahirazmi786.blogspot.com*

Image
*لاک ڈاؤن میں رمضان المبارک کی آمد* *✍️ عاصم طاہر اعظمی* *+91 7860601011* *asimtahirazmi786.blogspot.com* رمضان اللہ کی طرف سے عطا کردہ بے شمار انعامات میں سے ایک عظیم نعمت ہے، عین ممکن ہے کہ اس رمضان کے بعد اللہ تعالیٰ کئی اور رمضان ہمیں عطاء فرمائے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ رمضان ہماری زندگیوں کا آخری رمضان ہو ، ​ یہ رمضان بھی پہلے والے کئی رمضانوں کی طرح گذر تو جائے گا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم نے صدق دل سے عہد کیا ہے'کہ یہ رمضان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت میں گزاریں گے؟ اور اسے دنیا کی کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامرانیوں کا مضبوط وسیلہ اور دونوں جہانوں میں ترقی کا زینہ بنائیں گے؟ اور اس سے بڑھ کر غور کرنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ رمضان میں اگر ہم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت اختیار کی تو کیا رمضان کے بعد ہم اُس اطاعت پر قائم رہنے کا عزم کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو الحمد للہ  یہ انتہائی سعادت اور فیروز مندی کی بات ہے ، اور اگر نہیں تو یقینا بہت نقصان اور ہر لحاظ سے خسارے  کا سودا  ہے، جو ...

دیارِ مغرب سے ملنے والی غیر مہذب وناشائستہ روایت "اپریل فول"

Image
دیارِ مغرب سے ملنے والی غیر مہذب وناشائستہ روایت "اپریل فول" عاصم طاہر اعظمی ✍️✍️ asimtahirazmi786.blogspot.com 7860601011 9307861011 مشرقی اقوام کو دیار مغرب سے ملنے والی غیر مہذب وناشائستہ روایات میں ایک بڑی روایت”اپریل فول“ کہلاتی ہے، ہر سال یکم اپریل کو مرد وزن آپس میں ایک دوسرے کو جھوٹ بول کر واہیات پھیلا کر بے وقوف بناتے ہیں ایک دوست دوسرے دوست کو مٹھائی کھلانے کے بہانے بدمزہ چیز کھلا کر احمق بناتا ہے کوئی اپنے دوست احباب اوررشتہ داروں کو اپنے ہی کسی عزیز کے مرنے کی جھوٹی خبر دے کر انہیں رنج وغم میں مبتلا کرجاتا ہے اور کوئی اسی طرح کی جٹ پٹی خبر پھیلاکر لوگوں کا تمسخر اڑاتا ہے- انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم دینِ اسلام کی روشن تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر مادر پدر آزاد اغیار کی بے ہودہ اور بد تہذیب عادات و اطوار کے گرویدہ بنتے چلے جارہے ہیں، دینِ اسلام ہمیں جھوٹ بولنے سے منع کرتا ہے، اس کے باوجود ہم یکم اپریل کے دن یہود و نصاریٰ کی نقالی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب واقرباءکو بے وقوف بناتے اور ان کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں ،اور پھر اپنے اس گناہ کو فخریہ...

*کورونا کا قہر، احتیاطی تدابیر جان ہے تو جہان ہے* *عاصم طاہر اعظمی*

Image
*کورونا کا قہر، احتیاطی تدابیر جان ہے تو جہان ہے* *عاصم طاہر اعظمی* 7860601011 9307861011 کورونا کے قہر سے اس وقت پوری دنیا میں عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہے آج سے تین مہینے قبل چین کی سرزمین سے 19 دسمبر 2019 کو کورونا نامی وائرس نمودار ہونے والا  اس وقت تقریباً پوری دنیا میں اپنا اثر بکھیر چکا ہے تین مہینے کی دن و رات کوششوں کے بعد چین نے اب جاکر اس وائرس کو روکنے میں کامیاب ہوا ہے جب یہ وائرس چین میں شروع ہوا تھا تو اس وقت پوری دنیا چین کا مزاق اڑا رہی تھی اور کھلے لفظوں میں کھ رہی تھی کہ اچھا ہوا یہ وائرس آیا ہے وہاں یہ تھا وہاں وہ تھا لیکن اب جب کہ یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل گیا ہے سب کہ آوازیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ ملکوں تک بند کرنا پڑرہا ہے ہر طرح کہ آمد و رفت معطل کردی گئیں ہیں شہروں کی تمام دکانیں بھی بند تمام گلیوں میں سناٹا پسرا ہے گویا یوں کھ لیں کہ شہروں کی تمام رنگینیاں گل ہوگئی ہیں ہر طرف اجڑا ویران سا منظر دکھ رہا ہے جہاں سے روزآنہ گزرنا مشکل ہوتا تھا آج وہاں آدم ہیں نہ آدم زاد اتنا سب کچھ ہونے کے بعد پھر بھی کورونا اپنا پیر جماتے چلا جارہا ہے روزانہ کورونا کے ...

نسلی تعصب، فرقہ پرستی اور مذہبی جنونیت کی تازہ مثال دہلی لہو لہو

Image
 نسلی تعصب، فرقہ پرستی اور مذہبی جنونیت کی تازہ مثال دہلی لہو لہو عاصم طاہر اعظمی 7860601011 9307861011 بھارتی میڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران تشدد بھارت کا اصل اور شرمناک چہرہ بھرپور انداز میں ایکسپوز کیا ہے۔  میڈیا کے مطابق جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا دورہ کیا، تو وہیں دوسری طرف دہلی دنگے فساد کی زد میں رہا۔ دہلی کے مسلمان شہریت کے متنازع قانون کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے کرنے لگے جبکہ آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں پر حملوں کا آغاز کردیا۔                     روزنامہ الحیات رانچی جھارکھنڈ  میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جب ٹرمپ اور ان کی بیوی میلانیا ٹرمپ کو نئی دہلی میں سرکاری اسکول کا دورہ کروایا جا رہا تھا، عین اسی وقت دہلی کے مختلف علاقوں میں میں ہندوانتہا پسندوں نے مسجد پر حملہ کردیا، آر ایس ایس کے غنڈوں نے دہلی میں مساجد کو بھی شہید کرنا شروع کردیا۔ ہندوانتہا پسندوں نے اشوک نگر کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر اکھاڑ دیئے اور مینار پر بھارتی جھنڈے لہرا دییے،...

جشنِ جمہور بہر طور منانا ہوگا تحریر: عاصم طاہر اعظمی

Image

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی

Image
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی 786 060 1011 930 786 1011 ـــــــــــــــــــــــــــــ تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی فیض لدھیانوی نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے جس میں وہ تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آخری حدوں سے گزر جانے میں ذرا سا تامل محسوس نہیں کرتے جن بیہودہ حرکات و سکنات کی وجہ سے کبھی مسلمان اہل مغرب کو شرم و عار دلاتے تھے اب وہ خود اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے نہ اس وقت قرآنی تعلیمات انہیں یاد رہتی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نہ اسراف سے بچنے کی فکر اور نہ ہی ضیاع وقت پر شرمندگی جب کہ وقت ایک قیمتی بیش بہا نعمت ہے یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ایک مرتبہ گزر جائے دوبارہ واپس آنا ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے گزرتے ہوئے ...

ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی

Image
ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی آج ہم کس ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں کیا اسی ہندوستان کو دیکھنے کے لیے بلا تفریق مذہب و ملت ہمارے آباؤ و اجداد نے قربانیاں دی تھیں؟ جس گلستاں کو ہندو مسلم سکھ اور عیسائی نے مل کر اپنے سرفروشانہ جذبے، جان کی بازی اور آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر موت کی زندگی کو خوشی بخوشی قبول کرلیا تھا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں چین و سکون سے زندگی بسر کرسکیں، مگر آج ایک خاص گروپ اور نظریے کے سنگ دل اور نفرت کے پرستار لوگوں نے جن کے قائدین انگریزوں کے وفادار غلام تھے، اب وہی حکومت کا باگ ڈور تھام کر ہمیں غیر ملکی اور گھس پٹھیا کھ کر این آر سی اور سی اے بی کے آڑ میں باہر اور ڈی ٹینشن ہوم میں بھرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جب آسام میں این آر سی لاگو کیا گیا تو بعض دانشوروں نے شک ظاہر کیا تھا کہ یہ مسلمانوں پر ان ڈائریکٹ حملہ کیا جارہا ہے مگر جب این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو تقریباً 19 لاکھ لوگ اس فہرست سے باہر ہوگئے جس میں 14 لاکھ کے قریب خود ہندو مذہب کے لوگ تھے تب چینلوں اور اخبار والوں نے دانشوروں ...