ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی



ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے

✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی

آج ہم کس ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں کیا اسی ہندوستان کو دیکھنے کے لیے بلا تفریق مذہب و ملت ہمارے آباؤ و اجداد نے قربانیاں دی تھیں؟ جس گلستاں کو ہندو مسلم سکھ اور عیسائی نے مل کر اپنے سرفروشانہ جذبے، جان کی بازی اور آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر موت کی زندگی کو خوشی بخوشی قبول کرلیا تھا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں چین و سکون سے زندگی بسر کرسکیں، مگر آج ایک خاص گروپ اور نظریے کے سنگ دل اور نفرت کے پرستار لوگوں نے جن کے قائدین انگریزوں کے وفادار غلام تھے، اب وہی حکومت کا باگ ڈور تھام کر ہمیں غیر ملکی اور گھس پٹھیا کھ کر این آر سی اور سی اے بی کے آڑ میں باہر اور ڈی ٹینشن ہوم میں بھرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جب آسام میں این آر سی لاگو کیا گیا تو بعض دانشوروں نے شک ظاہر کیا تھا کہ یہ مسلمانوں پر ان ڈائریکٹ حملہ کیا جارہا ہے مگر جب این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو تقریباً 19 لاکھ لوگ اس فہرست سے باہر ہوگئے جس میں 14 لاکھ کے قریب خود ہندو مذہب کے لوگ تھے تب چینلوں اور اخبار والوں نے دانشوروں کو خوب آڑے ہاتھ لیا تھا کہ اگر مسلمانوں پر حملہ ہے تو ہندو بھائیوں کا نام کیسے اس لسٹ سے غائب ہے مگر گزشتہ دنوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں سی اے بی کو پاس کراکر یہ واضح کردیا ہے کہ یہ بل مسلم اور جمہوریت کے مخالف ہے جو اب صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد قانون بن گیا ہے آج پوری دنیا ہمارے ملک پر ہنس رہی ہے کہ ایک جمہوریت پسند ملک جو اپنے سیکولرزم کی وجہ سے جانا اور پہچانا جاتا تھا وہ ایک خاص کمیونٹی کو ٹارگیٹ بنا کر بل پاس کیا ہے بل میں صاف ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر پاکستانی، بنگلہ دیشی، اور افغانستانی ہندو ،سکھ، بودھ، عیسائی یعنی مسلم کو چھوڑ کر اس ملک میں جو اکثریت کے ظلم کے شکار ہیں وہ ہندوستان میں بسنا چاہیں گے تو انھیں ہم شہریت دیں گے، لیکن یہاں پر صرف مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا اگر دیگر مذاہب کے لوگ آرہے تو پھر مسلمان کیوں نہیں آسکتا اس سے یہی صاف ظاہر ہے کہ صرف مسلمانوں کو ٹارگیٹ بنایا گیا ہے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان ملکوں میں وہاں کی اقلیتوں پر ظلم ہورہا ہے اس لیے یہ بل لایا جارہا ہے مسلمانوں کو اس بل سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ وہی ہیں نا جنہوں نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگایا تھا جنہوں نے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرے کے ساتھ ساتھ بہت سے لالی
پاپ دیے تھے لیکن ان تمام میں ناکام رہے،

پورے ملک میں سناٹا پسرا ہوا تھا یہ بل ایسا ہے کہ اگرچہ ہندوستانی قوانین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، یہ براہ راست آئین کو چوٹ پہونچاتا ہے، اور مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کرنے کی یقین دہانی پر کاری ضرب لگاتا ہے، اس کی جڑ مذہبی تشدد کو بتلا کر پہلے ہی قانونی جڑیں اکھیڑ دی ہیں، سری لنکا میں تامل ہندووں کو الگ کر کے اور میانمار کے مظلومین،چین کے ستم زدہ پڑوسیوں کو چھوڑ کر محض تین ملکوں کو توجہ دینا خود آئین کی دھجیاں اڑاتا ہے، اور حکمرانوں کی بدنینتی عیاں کرتا ہے، صرف آسام کی کل تین کڑور کی آبادی میں این، آر، سی کی کاروائی کرتے ہوئے نہ جانے کتنے کروڑ روپئے خرچ ہوگئے، اب پورے ملک میں اسے لاگو کیا جائے تو کتنا خرچ ہوگا اس کا کوئی اندازہ نہیں_ یہ بھی ملک کے خیر خواہاں کیلئے تکلیف دہ ہے، لیکن تمام جمہوری پارٹیاں اپنی زبانوں پر تالے لگا چکی تھیں عوام اندھ بھکتی میں مگن تھی شاذ و نادر آوازیں بلند ہورہی تھیں نارتھ ایسٹ کے بعض صوبے اور ان میں ڈیموکریٹک جماعتیں مخالفت کر رہی تھیں ، میزورم، ناگالینڈ اور آسام جیسے علاقوں میں سخت احتجاج درج کیا گیا تھا لیکن ملک پچھلے پانچ دنوں سے سراپا احتجاج بنا ہوا ہے وطن عزیز کے کونے کونے سے اس بل کی مخالفت کی صدائیں بلند ہورہی ہیں آزادی کے بعد شاید یہ پہلا موقع ہے جس میں پورا ملک بغیر مذہب و ملت اس بل کی مخالفت کررہا ہے،
 مشرق و مغرب کی زمین  تمہارے فتح کے جھنڈوں کیلے بے تاب ہے اب جب تم نے کاندھوں پر ملک و ملت کا بوجھ اٹھا لیا ہے تو تھک کر بیٹھ نا جانا تم ہی اب ایک انقلاب برپا کرنے والے ہو جس طرح سے اس بل کے خلاف آواز بلند کی گئی اب اس شمع کو ہرگز بجھنے نہیں دینا، تمہارے آواز میں دم ہے اے نوجوانوں اب رکنا نہیں،  ڈرنا نہیں ، لوٹنا نہیں، پیچھے مڑکر دیکھنا نہیں، اب آگے بڑھتے چلے جاؤ ایک نئی صبح تمہارے انتظار میں ہے پوری قوم تم سے امید باندھے ہوئے ہے کسی بھی قوم کی بیک بون اسکے نوجوان ہوتے ہیں اب یہ بوڑھی قیادت صرف صلح مشورہ کے لیے رہ چکی ہیں تمہارے جذبات کو ترتیب دینے کیلے ضرور انکا استعمال کیجیے گا، لیکن اب تمہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے احتجاج ہوجانے کے بعد اپنے جذبات کو ٹھنڈے بستے مین ڈال کر نا سوجانا جاگتے رہو ، اور عزم و استقلال کے ساتھ احتجاج کو جاری رکھو اس وقت تک لوٹنا مت جبتک انصاف نہ مل جائے، یا فتح کی جھنڈے نا گاڑ دو طارق بن زیاد، محمد بن قاسم بھی تمہاری طرح ہی نوجوان تھے، آج تم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے  عدل و انصاف کے بیچ میں آنے والے تمام مشکلات کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دو یہی وقت ہیں تبدیلی کا ورنہ کارواں گزر جائے گا اور غبار دیکھتے رہ جاؤ گے،
 یہ تاریخِ ہند کا گولڈن ٹائم ہے جس میں برادرانِ وطن خود چل کر آپ کے پاس آئے ہیں اور دستور کی حفاظت میں آپ کے قدم بہ قدم ہیں اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کوششیں تیز نہ کی گئیں تو پھر یہ سازگاری دوبارہ میسر ہونا بہت مشکل ہوگا، یہ وقت وقتِ انقلاب ہے برادرانِ وطن کے ساتھ پر امن احتجاجی مظاہرے جاری رہی تمام حضرات جس شکل میں بھی ممکن ہو اِس امن آور انقلاب میں شریک ہوں. اگر ظالم جماعت اِس موقعے پر اپنی پالیسی میں فیل ہوگئی تو اس کے ہمالیائی اور دور رس اثرات پڑینگے ان شاء اللہ. ان کامیاب احتجاجی مظاہروں کی ضرب اب صرف cab پر نہیں پڑے گی بلکہ دشمن  کے آئندہ کے تیار بہت سارے ظالمانہ منصوبوں پر بھی پڑے گی. لہٰذا ان احتجاجی مظاہروں کو صرف cab کے محدود دائرے میں نہ دیکھیں اگرچہ cab خود ناقابلِ تصور حد تک ظالمانہ اور غیر آئینی ہے. یہ فیصلہ کن گھڑی ہے لہذا بغیر کسی لیت ولعل کے پر امن احتجاج کے مشعل کو آگے بڑھاتے چلے جائیں. اس احتجاج کو آگے بڑھانے میں قوم و ملت اور ملک کی تحفظ و بقاء کے لیے جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو اور دیگر یونیورسٹییز کے طلباء و طالبات نے جو قربانیاں پیش کیں ہیں وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں تم لوگوں نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کو مؤرخ سنہرے قلم سے سنہری روشنائی سے قرطاس زرّیں پر تحریر کرے گا زمانہ تمہارے کارنامے کو سالہا سال عقیدت کی نظر سے دیکھے گا،
قوم کے جیالوں تمہاری عظمتوں کو سلام
تمہاری بہادری و بے باکی کو سلام
تمہاری ملک سے محبت کو ہزاروں سلام
جامعہ اور علی گڑھ کی بہنوں نے اپنی حمیت اسلامی کا  ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ انہوں نے مردوں کو مُردوں میں بدل دیا۔ بزدلی کی خزاں کو امید کی بہادری کا لبادہ پہنادیا ۔ مایوسی کی تیرگی کو اجالوں کا پیرہن پہنادیا ۔ مردوں کے ہاتھ سے زندگی کی شمشیریں چھین کر انہیں چوڑیاں پہنادیں۔
میری بہنوں تم نے مصر کی زینب الغزالی کی شجاعت کی یاد تازہ کردی ۔ الجیسیا کی جمیلہ بو پاشاہ کی دلیری کی یاد تازہ کردی ۔ تم نے لیلیٰ خالد کی جانبازی کی یادوں کی شمع کو پھر فروزاں کردیا ۔ تم نے حضرت صفیہؓ کی جرأت رندانہ کو پھر یاد دلادیا۔
آفریں صد آفریں
آج اسلام کو ایسی ہی دختران کی ضرورت ہے جو ا پنے آنچل کو پرچم انقلاب بنالیں۔ جو اپنے ڈوپٹے کو ا پنا کفن بنالیں۔
کم ہمتی بزدلی، ایمان فروش ضمیر فروش، مفاد پرست ، مفادات ملی کے سوداگروں کی زندگی گیدڑوں کی زندگی ہوتی ہے ۔ شیرنیوں کی طرح جینا تو تم نے سکھادیا،
لیکن افسوس ہوتا ہے ایسوں میں نام نہاد قائدین پر جو اسٹیج پر آتے ہی شیر ببر بن جاتے ہیں  کانفرنسوں میں فلک شگاش نعروں کی گونج سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا وجود باقی ہے لیکن کیا وجود صرف دکھانے کے لیے ہے نہیں ہرگز نہیں اگر آپ لوگوں نے ایسوں میں لاچار اور مظلوم مظاہرین کا ساتھ نہیں دیا تو کل قیامت کے دن وہ مظلوم آپ سے سوال کر بیٹھیں گے  آپ لوگوں نے خانقاہوں مسجدوں کو ہی اپنا اصل محور سمجھ لیا ہے_ خدا خیر کرے ایسی قوم کا اور ایسی بے حس قیادت کا یاد رکھیے مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کارواں زندگی میں لکھتے ہیں
اگر قوم کوپنچ وقتہ نمازی ہی نہیں بلکہ اگر سوفیصدی تہجد گزار بنادیا جائے لیکن‌اسکے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے واقف نہ کرایا جائے تو ممکن ہے اس ملک میں آئیندہ تہجد‌ تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے،
۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی کی خوفناک شکست کے بعد ہمارے اکابرین نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ لڑائ تنہا لڑنا مشکل ہے
پھر اسکے بعد برادرانِ وطن سے روابط بڑھائے گئے
اور آزادی کے بعد سیکولر دستور سازی میں بھی وہ برابر پریشر بنانے میں جٹے رہے ۔

آج بھی موقع ہے اس دستور کی حفاظت کا
اور برادرانِ وطن خصوصا تعلیم یافتہ طبقہ آپ کے ساتھ ہے
آگے بڑھئے
اور یاد رکھئے تاریخ کا ایک بھی انقلاب ایسا نہیں ملے گا جو قربانیوں کے بغیر ملا ہو
ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے
ہم حق کا نشاں ہیں دنیا میں باطل کو مٹا کر دم لیں گے
حق تعالیٰ جل مجدہ آپ لوگوں کا حامی و ناصر ہو آمیــــن

Comments

Popular posts from this blog

آفتاب علم کا بے بال و پر شہباز! تحریر! عاصم طاہر اعظمی

تیرے ہی دم سے ہے گلشن میں ہر طرف رونق عاصم طاہر اعظمی ایڈیٹر آئی این اے نیوز نیوز اعظم گڑھ 7860601011 9307861011

جب بہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں