Posts

Showing posts with the label مضامین

جب طاقت کے نشے تلے بھارت میں سیکولرازم کا جنازہ نکلا 6/ دسمبر یومِ انہدام بابری مسجد!

Image
 جب طاقت کے نشے تلے بھارت میں سیکولرازم کا جنازہ نکلا  6/ دسمبر یومِ انہدام بابری مسجد! تحریر: عاصم طاہر اعظمی 7860601011  9307861011  آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانان ہند کو بہت سے زخم کھانے سہنے اور اٹھانے پڑے ہزاروں مسلم کش فسادات ہوئے جن میں ہزاروں مسلمانان ہند لقمہ اجل ہوئے جن میں کھربوں روپیوں کا نقصان ہوا اور اربوں کی جائیداد تباہ و برباد کر دی گئی مسلمانوں نے عدالت عظمى کا دروازہ کھٹکھٹایا، انصاف طلب کیا، قانون کی دہائی دی، تو ظلم و ستم کے اور دروازے کھول دیئے گئے یہ سب بہت کچھ ہوا اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ظلم و ستم کی یہ کہانی دھرائی جاتی رہی، لیکن، دسمبر 1992 میں مسلمانوں پر اجتماعی طور پر جو ظلم ہوا اس نے مسلمانوں کو جان و مال کے زیاں کے ساتھ سو سال پیچھے کردیا،  مسلمانوں کی زندگی میں مساجد کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور اثر انگیز ہےکعبتہ اللہ، بیت اللہ، جنت کا باغ وغیرہ جیسے الفاط کے ساتھ یاد کیا جاتاہے زندگی کے تمام شعبۂ جات کو مسجد کی مرکزیت سے جوڑنے کی روایات حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے ثابت ہے،  دور زوال کاایک المی...

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی

Image
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی 786 060 1011 930 786 1011 ـــــــــــــــــــــــــــــ تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی فیض لدھیانوی نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے جس میں وہ تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آخری حدوں سے گزر جانے میں ذرا سا تامل محسوس نہیں کرتے جن بیہودہ حرکات و سکنات کی وجہ سے کبھی مسلمان اہل مغرب کو شرم و عار دلاتے تھے اب وہ خود اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے نہ اس وقت قرآنی تعلیمات انہیں یاد رہتی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نہ اسراف سے بچنے کی فکر اور نہ ہی ضیاع وقت پر شرمندگی جب کہ وقت ایک قیمتی بیش بہا نعمت ہے یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ایک مرتبہ گزر جائے دوبارہ واپس آنا ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے گزرتے ہوئے ...
Image
تحریر: محمد عاصم اعظمی ریسرچ اسکالر حجة الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  رمضان المبارک برکتوں والا مہینہ ہے، اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا، رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، رمضان کی اہمیت کے بارے میں ﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد سے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا ا...
Image
*اعتکاف قربِ خداوندی کا بہترین زریعہ* تحریر! عاصم طاہر اعظمی قاسمی منجیرپٹی سرائے میر اعظم گڑھ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں، اعتکاف کی حقیقت خلوت نشینی ہے اور یہ اللہ رب العزت کا اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدُّق سے امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خصوصی لطف و احسان ہے کہ وصال حق کی وہ منزل جو اممِ سابقہ کو زندگی بھر کی مشقتوں اور بے جا ریاضتوں کے نتیجے میں بھی حاصل نہیں ہوتی تھی فقط چند روز کی خلوت نشینی سے میسر آسکتی ہے چنانچہ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان چند روز کے لئے علائق دنیوی سے کٹ کر گوشہ نشین ہوجائے ایک محدود مدت کے لئے خلوت گزیں ہو کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کرلے، اپنے من کو آلائش نفسانی سے علیحدہ کر کے اپنے خالق و مالک کے ذکر سے اپنے دل کی دنیا آباد کرلے، مخلوق سے آنکھیں بند کر کے اپنے خالق کی طرف لو لگائے ان کیفیات سے مملو ہوکر جب انسان دنیا و مافیھا سے کٹ کر صرف اپنے خالق و مالک کے ساتھ لو لگا لیتا ہے تو اس کے یہ چند ایام سالوں کی عبادت اور محنت و مشقت پر بھاری قرار پاتے ہیں،...

زکوٰۃ ایک مالی عبادت

Image
*زکوٰۃ ایک مالی عبادت* تحریر: عاصم طاہر اعظمی آپ دنیا کی کسی بھی تحریک کو دیکھ لیں کسی بھی مذہب کا مطالعہ کر لیں روٹی کا مسئلہ نہ کسی نے نظر انداز کیا نہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ غریبوں بیواؤں، یتیموں اور معذوروں کی مدد کرنے کا حکم ہر جگہ ہر ایک نے دیا اور دے رہے ہیں مگر جس طریقے سے اس مسئلے کو اسلام نے اپنایا اور جس حکمت عملی سے حل کیا ہے وہ صرف اسلام ہی کا خاصہ ہے عام طور پر دوسرے مذاہب میں ایک دوسرے کی مدد ایک اخلاقی ہدایت تک محدود رکھی گئی ہے کہ مدد کرنا چاہیے دوسرے کی مدد کرنا اچھی بات ہے، مگر یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے جو نظام حیات دیا ہے اس میں نماز جیسی اہم ترین عبادت کے بعد زکوٰۃ کی صورت میں غربت کے مسئلے کو حل کیا ہے زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا جا سکتا ہے کہ اسلام کی سب سے مقدم عبادت نماز کے بعد اسی کا نمبر ہے شب معراج کو فرض ہوئی یعنی ہجرت سے ایک سال پہلے جب کہ زکوٰۃ 2ہجری میں فرض ہوئی قرآن کریم میں نماز اور زکوٰۃ کو 82 مقامات پر ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کی نظیر کسی اور حکم میں نہیں ملتی، زکوٰۃ ادا کرنے کے چند مقاصد اور آداب ہیں جو ملحوظ رکھنے چاہئی...

شبِ برأت احادیثِ نبویہ و اکابرِ امت کی نظر میں

Image
*شبِ برأت احادیثِ نبویہ و اکابرِ امت کی نظر میں*   تحریر : عاصم طاہر اعظمی حق تعالیٰ جل مجدہ نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں پر فضیلت سے نوازا ہے جیسا کہ مدینہ منورہ کو تمام شہروں پر فضیلت حاصل ہے، وادئ مکہ کو تمام وادیوں پر، بئرِ زمزم کو تمام کنوؤں پر، مسجدِ حرام کو تمام مساجد پر، سفرِ معراج کو تمام سفروں پر، ایک مؤمن کو تمام انسانوں پر، ایک ولی کو تمام مؤمنوں پر، صحابی کو تمام ولیوں پر، نبی کو تمام صحابہ پر، اور رسول کو تمام نبیوں پر اور رسولوں میں تاجدارِ مدینہ سرور کائنات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص فضیلت اور مقام و مرتبہ پر فائز ہے اور بقول شاعر: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر حق تعالیٰ جل مجدہ نے اسی طرح بعض دنوں کو بعض پرفضیلت دی ہے، یومِ جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر، ماہِ رمضان کو تمام مہینوں پر، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر اور شب برات کو دیگر راتوں پر۔ احادیثِ مبارکہ سے اس بابرکت رات کی جو فضیلت و خصوصیت ثابت ہے اس سے مسلمانوں کے اندر اس رات اتباع و اطاعت اور کثرتِ عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ *شبِ برأت ...

اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر!

Image
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر ! تحریر: عاصم طاہر اعظمی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ مشرقی اقوام کو دیار مغرب سے ملنے والی غیر مہذب وناشائستہ روایات میں ایک بڑی روایت”اپریل فول“ کہلاتی ہے، ہر سال یکم اپریل کو مرد وزن آپس میں ایک دوسرے کو جھوٹ بک کر واہیات پھیلا کر بے وقوف بناتے ہیں ایک دوست دوسرے دوست کو مٹھائی کھلانے کے بہانے بدمزہ چیز کھلا کر احمق بناتا ہے کوئی اپنے دوست احباب اوررشتہ داروں کو اپنے ہی کسی عزیز کے مرنے کی جھوٹی خبر دے کر انہیں رنج وغم میں مبتلا کرجاتا ہے اور کوئی اسی طرح کی جٹ پٹی خبر پھیلاکر لوگوں کا تمسخر اڑاتا ہے- انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم دینِ حق اسلام کی روشن تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر مادر پدر آزاد اغیار کی بے ہودہ اور بد تہذیب عادات و اطوار کے گرویدہ بنتے چلے جارہے ہیں۔ دینِ اسلام ہمیں جھوٹ بولنے سے منع کرتا ہے، اس کے باوجود ہم یکم اپریل کے دن یہود و نصاریٰ کی نقالی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب واقرباءکو بے وقوف بناتے اور ان کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں ،اور پھر اپنے اس گناہ کو فخریہ انداز میں لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں، دنی...

ماہ مقدس محرم الحرام کی عظمت و فضیلت!

Image
ماہ مقدس محرم الحرام کی عظمت و فضیلت!  تحریر: محمد عاصم اعظمی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔ ’’محرم‘‘ کا لفظ تحریم سے بنا ہے اور تحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے۔ حرمت کا لفظی معنی عظمت ، احترام وغیرہ ہے ، اس بناء پر محرم کا مطلب احترام اورعظمت والا ہے ۔چونکہ یہ مہینہ بڑی عظمت اور فضیلت رکھتا ہے اور بڑا مبارک اور لائق احترام ہے اس لئے اسے محرم الحرام کہا جاتا ہے ۔ یوں تو محرم کا پورا مہینہ ہی مبارک ہے مگر جس طرح رمضان کا آخری عشرہ پہلے دو عشروں سے افضل ہے اور آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کی رات سب سے افضل ہے ، اسی طرح اس مہینہ میں عاشورہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے ۔ عاشورہ کا مطلب دسواں ہے ، یہ دن چونکہ دسویں تاریخ کو آتا ہے اس لئے اسے عاشورہ کہتے ہیں ۔ فضیلت کامدار: اللہ تبارک وتعالیٰ تمام اشیاء کی طرح زمانے کے بھی خالق ہیں،اس لئے زمانے کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے، اس لئے ہم اپنی عقل سے ایک زمانے کو دوسرے زمانے پرفضیلت نہیں دے سکتے ہیں،کسی دن کو کسی دن پر،ہفتے کو دوسرے ہفتے پر، مہینے کو دوسرے مہینے پر اور سالوں میں...