Posts

Showing posts from November, 2018
Image
ہوا میں محل بنانا عرصہ دراز سے ایک ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے لیکن اٹھارویں صد ی میں راجستھان کے ایک راجپوت راجہ نے اس کہاوت کو عملی شکل دے دی۔ اگرچہ وہ ہوا میں محل تو تعمیر نہ کرسکا لیکن اس نے ہوا محل کے نام سے ایک وسیع و عریض محل تعمیر کر دیا جو آج بھی راجستھان کی خاص پہچان ہے۔ اس محل میں چاروں طرف سے ہوا اندر آتی ہے۔ شدید گرمی میں بھی محل کا اندرونی ماحول ٹھنڈا اور راحت افزا محسوس ہوتا ہے۔ اس محل میں راجستھان اور مغل طرز کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1799ء میں مہاراجہ سوائی پرتاب نے جے پور شہر میں اس محل کی تعمیر کرائی۔ یہ محل شاہی خواتین کے لئے تیار کرایا گیا جن پر پردے کی پابندی کی وجہ سے بازار جانا اور شہر کی رونق سے لطف اندوز ہونا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا اس محل کی تعمیر اس انداز سے کی گئی کہ شاہی خاندان کی خواتین محل کی کھڑکیوں میں کھڑے ہو کر سارے شہر کا نظارہ کرسکتی تھیں۔ اس محل کو پیلس آف ونڈ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اور جے پور کے تاریخی شہر میں آج بھی یہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس محل کی خاص بات اس کا ڈیزائن ہے جو دور سے دیکھنے پرشہد کی مکھیوں کا چھتہ محس...
Image
ہر دلعزیز و مخلص دوست #مفتی_شجاع_الرحمٰن اعظمی کٹولی خرد فاضل #دارالعلوم_وقف_دیوبند الحمدللہ آج کامیابی کا ایک اور مرحلہ طے کیے یعنی #انٹر_نیشنل_اسلامک_یونیورسٹی_ملیشیاء سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، واضح رہے کہ محترم موصوف وہیں پر المنهج النبوي للتعايش السلمي مع غير المسلمين: الهند نموذجاً کے عنوان پر #پی_ایچ_ڈی کر رہے ہیں اس حسین موقع پر دل گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اسی طرح ہمشہ حق تعالٰی جل مجدہ سے کامیابی و کامرانی کی دعا کرتا ہوں                                          #عاصم_طاہر_اعظمی

یوگا نگری کا ایک یادگار سفر

Image
*یوگا نگری کا ایک یادگار سفر *     *عاصم طاہر اعظمی * بس یوں ہی تذکرہ چھڑا کہ چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں کسی نے کچھ مشورہ دیا تو کسی نے کچھ اخیر میں میں نے بھی ایک نام پیش کیا اور کہا کہ یہ بھی مشورہ ہے  دوستوں نے علامہ گوگل پر اس نام کو سرچ کیا اور اس جگہ کی تصویریں دیکھیں کافی حد تک اس جگہ کو پسند کیا، اور واقعی وہ میری پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی، بہت پہلے سے اس جگہ کے بارے میں سوچ رکھا کہ اگر خدا نے چاہا تو اس جگہ ضرور گھومنے جاؤں گا، میرے ایک غیر مسلم دوست نے اس جگہ کے بارے میں بہت کچھ بتایا کہ وہ جگہ ہماری مقدس جگہوں میں سے ایک ہےاور وہاں کی مختصر تاریخ بھی بتائی تھی، بالآخر دوستوں نے وہیں جانے کا فیصلہ بھی کیا، اور وہ جگہ ریاست اتراکھنڈ کی دارالحکومت دہرادون سے تھوڑی دور پر واقع *رشی کیش* نام کا ایک خوبصورت قصبہ تھا، کچھ احباب کو جانے کی اتنی جلدی تھی کہ کھ رہے تھے کہ آج ہی نکل چلو پر شاید کہ وہ سفر کی مشکلات سے نا آشنا تھے بالآخر بسیارِ تلاش کے بعد بھی کسی ٹرین میں ٹکٹ نہیں ملا کافی کوششوں کے بعد نتیجہ سعی لاحاصل رہا، نتیجتاً بغیر ٹکٹ ہم لوگوں نے ...