Posts

Showing posts from December, 2019

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی

Image
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی 786 060 1011 930 786 1011 ـــــــــــــــــــــــــــــ تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی فیض لدھیانوی نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے جس میں وہ تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آخری حدوں سے گزر جانے میں ذرا سا تامل محسوس نہیں کرتے جن بیہودہ حرکات و سکنات کی وجہ سے کبھی مسلمان اہل مغرب کو شرم و عار دلاتے تھے اب وہ خود اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے نہ اس وقت قرآنی تعلیمات انہیں یاد رہتی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نہ اسراف سے بچنے کی فکر اور نہ ہی ضیاع وقت پر شرمندگی جب کہ وقت ایک قیمتی بیش بہا نعمت ہے یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ایک مرتبہ گزر جائے دوبارہ واپس آنا ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے گزرتے ہوئے ...

ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی

Image
ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی آج ہم کس ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں کیا اسی ہندوستان کو دیکھنے کے لیے بلا تفریق مذہب و ملت ہمارے آباؤ و اجداد نے قربانیاں دی تھیں؟ جس گلستاں کو ہندو مسلم سکھ اور عیسائی نے مل کر اپنے سرفروشانہ جذبے، جان کی بازی اور آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر موت کی زندگی کو خوشی بخوشی قبول کرلیا تھا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں چین و سکون سے زندگی بسر کرسکیں، مگر آج ایک خاص گروپ اور نظریے کے سنگ دل اور نفرت کے پرستار لوگوں نے جن کے قائدین انگریزوں کے وفادار غلام تھے، اب وہی حکومت کا باگ ڈور تھام کر ہمیں غیر ملکی اور گھس پٹھیا کھ کر این آر سی اور سی اے بی کے آڑ میں باہر اور ڈی ٹینشن ہوم میں بھرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جب آسام میں این آر سی لاگو کیا گیا تو بعض دانشوروں نے شک ظاہر کیا تھا کہ یہ مسلمانوں پر ان ڈائریکٹ حملہ کیا جارہا ہے مگر جب این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو تقریباً 19 لاکھ لوگ اس فہرست سے باہر ہوگئے جس میں 14 لاکھ کے قریب خود ہندو مذہب کے لوگ تھے تب چینلوں اور اخبار والوں نے دانشوروں ...