Posts

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی

Image
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ؟ تحریر: عاصم طاہر اعظمی 786 060 1011 930 786 1011 ـــــــــــــــــــــــــــــ تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی فیض لدھیانوی نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے جس میں وہ تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آخری حدوں سے گزر جانے میں ذرا سا تامل محسوس نہیں کرتے جن بیہودہ حرکات و سکنات کی وجہ سے کبھی مسلمان اہل مغرب کو شرم و عار دلاتے تھے اب وہ خود اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے نہ اس وقت قرآنی تعلیمات انہیں یاد رہتی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نہ اسراف سے بچنے کی فکر اور نہ ہی ضیاع وقت پر شرمندگی جب کہ وقت ایک قیمتی بیش بہا نعمت ہے یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ایک مرتبہ گزر جائے دوبارہ واپس آنا ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے گزرتے ہوئے ...

ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی

Image
ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے ✍✍✍ عاصم طاہر اعظمی آج ہم کس ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں کیا اسی ہندوستان کو دیکھنے کے لیے بلا تفریق مذہب و ملت ہمارے آباؤ و اجداد نے قربانیاں دی تھیں؟ جس گلستاں کو ہندو مسلم سکھ اور عیسائی نے مل کر اپنے سرفروشانہ جذبے، جان کی بازی اور آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر موت کی زندگی کو خوشی بخوشی قبول کرلیا تھا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں چین و سکون سے زندگی بسر کرسکیں، مگر آج ایک خاص گروپ اور نظریے کے سنگ دل اور نفرت کے پرستار لوگوں نے جن کے قائدین انگریزوں کے وفادار غلام تھے، اب وہی حکومت کا باگ ڈور تھام کر ہمیں غیر ملکی اور گھس پٹھیا کھ کر این آر سی اور سی اے بی کے آڑ میں باہر اور ڈی ٹینشن ہوم میں بھرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جب آسام میں این آر سی لاگو کیا گیا تو بعض دانشوروں نے شک ظاہر کیا تھا کہ یہ مسلمانوں پر ان ڈائریکٹ حملہ کیا جارہا ہے مگر جب این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو تقریباً 19 لاکھ لوگ اس فہرست سے باہر ہوگئے جس میں 14 لاکھ کے قریب خود ہندو مذہب کے لوگ تھے تب چینلوں اور اخبار والوں نے دانشوروں ...

پروانچل سے ہماچل تک (سفر نامہ شملہ) از قلم _عاصم طاہر اعظمی

Image
پروانچل سے ہماچل تک (سفر نامہ شملہ) عاصم طاہر اعظمی 7860601011 وادی ہماچل اپنے قدرتی حسن کی بدولت ملکہ حسن کہلانے والے ہندوستان  کی خوبصورت ترین وادی "شملہ" ہماچل پردیش کے ماتھے کا جھومر ہے، جہاں صرف اور صرف سکون ہے چنار کے گھنے درخت دونوں اطراف کے گھنے جنگلوں کو  گھرے ہیں، پہاڑوں کے سائے، قدرتی چشموں اور  جگہ جگہ رواں صاف و شفاف پانی کے باعث اس علاقے کو ہندوستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں شامل کیا جاتا ہے، ہماچل پردیش کے دامن میں واقع ملکہ حسن وادی شملہ کا شمار ہندوستان کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں سال بھر موسم ٹھنڈا اور سرد رہتا ہے اگر ایک طرف ہندوستان کے دوسرے علاقے میں موسمِ گرما اپنا اثر بکھیر رہا ہوتا ہے تو وہیں اس علاقے میں گرمی نام کی کوئی چیز نہیں رہتی ہے ٹھنڈے اور سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، جنگلی گلابوں اور سرسبز مخملی گھاس کے وسیع و عریض میدان ہیں۔  جہاں تک نظر جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ ہے جیسے سبز رنگ ان پہاڑوں پہ انڈیل دیا گیا ہو یا انہوں نے خود ہی سبزے کی چادر اوڑھ لی ہو۔ قدرت کے اس حسین شاہکار کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی جا...

جب بہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں

Image
جب بَہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں تحریر: عاصم طاہر اعظمی 7860601011 9307861011 وطن عزیز کی جشنِ آزادی 15 اگست کوبڑے ہی شان و شوکت دھوم دھام سے منائی جاتی ہے،ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں خاص کر علمائے کرام کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے، ساتھ ہی ساتھ مدارس اسلامیہ بھی اس میں شانہ بشانہ شامل تھے، جنگ آزادی کی داستان بہت طویل اور انتہائی دردناک ہے جس کا احاطہ ایک چھوٹے سے مضمون میں ممکن نہیں، ہندوستان کی تحریک آزادی کی ایک سچی حقیقت یہ بھی ہے کہ علمائے کرام نے اس جنگ کو جہاد کا نام دیا تھا، 1857ء میں علمائے کرام نے جو جہاد کا فتویٰ دیا اور اس کی خوب تشہیر پورے ملک میں کی گئی جس سے پورے ملک میں آزادی کی لہر دوڑ گئی، علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں نے بھی اس جنگِ آزادی میں دل و جان سے حصہ لیا اور انتہائی درجہ کی تکلیفیں برداشت کیں اور ہزاروں علمائے کرام کو انگریزوں نے جوشِ انتقام میں پھانسی پر لٹکا دیا اور علمائے کرام نے بڑے عزم و حوصلہ سے مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو قبول کر لیا تھا،  آزادی وطن کا جذبہ اور وسیع منصوبہ  شیر میسور نامی کتا...

عید قرباں... مگر جذبہ ایثار و قربانی کا فقدان

Image
عید قرباں... مگر جذبہ ایثار و قربانی کا فقدان! تحریر: عاصم طاہر اعظمی ـــــــــــــــــــــــــــــــ اللہ جل مجدہ کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ نارِ جہنم کا ایندھن بنے اِسی لیے اس نے اپنے انبیائے کرام کے ذریعے اپنے بندوں کے لیے جنت کے راستے ہموار کیے اور ایسے ایسے عظیم اور آسان طریقے اور ذرائع مقرر کیے کہ جنہیں اپناکر انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوجاتاہے اور جنت الفردوس اس کا مقدر بن جاتی ہے، اُن طریقہ جات اور ذرائع میں سے قربانی کرنا بھی ایک ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوجاتی ہے اور اس کی دنیا و آخرت بھی سنور جاتی ہے. عید قرباں اسلام کا دوسرا عظیم تہوار ہے جو اپنی اہمیت ،فضیلت ،معنویت،اور روحا نیت  کے حوالے سے منفرد شنا خت اور خصوصیات کا حامل ہے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا عمل ایک طرف قرب خداوندی رضائے الہی اور پروردگار عالم کی خوشنودی کا با عث ہے تودوسری طرف ہر قدم پر سرفروشی، قربا نی، جاں نثاری اور صبر وشکر سے لبریز ہونے کے پیغام سے سرشار ہے، قربا نی ا...

موسمِ حج کی آمد آمد

Image
موسمِ حج کی آمد آمد تحریر :عاصم طاہر اعظمی دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں عازمین حج، حج کا ترانہ "لبیک الّلھم لبیک" پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ رہے ہیں، لاکھوں حجاج کرام  اسلام کے اس اہم رکن کی ادائیگی کے لیے دنیاوی و ظاہری زیب و زینت کو چھوڑکر اللہ تعالی کے ساتھ والہانہ محبت میں مقاماتِ مقدسہ(منی، عرفات اور مزدلفہ) پہنچ جائیں گے اور وہاں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے بتائے ہوئے طریقہ پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم(علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کی عظیم قربانیوں کے ساتھ قائم کریں گے۔      حج کو اسی لیے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں کیونکہ حاجی کے ہر عمل سے خضوع اور خشوع ظاہر ہوتا ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے عازمینِ حج! آپ تمام کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ جس مقدس سرزمین کی زیارت  اللّٰہ  تعالیٰ نے  مقدر کی ہے  یہ نبیوں  کی آماجگاہ ہے۔ اور اللّٰہ  کے  محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی با...

نصرت جہاں کی شادی سے زائرہ وسیم کی آزادی تک

Image
*نصرت جہاں کی شادی سے زائرہ وسیم کی آزادی تک* *عاصم طاہر اعظمی* فلمی دنیا میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی دومسلم اداکارہ ایک کا تعلق ریاست مغربی بنگال سے تو دوسری کا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے پچھلے کچھ دنوں سے دونوں کے تذکرے ہر خاص و عام کی زبان کی زینت بنے ہوئے ہیں اور یہ تذکرے یہیں تک نہیں بلکہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، اور سوشل میڈیا پر بھی چھائے ہوئے ہیں ہر عام و خاص اپنی اپنی ذھنیت کے مطابق دونوں اداکاروں پر کمنٹس بھی کررہے ہیں پہلی مسلم اداکارہ 29 سالہ نصرت جہاں جو ابھی لوک سبھا الیکشن میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن میں کامیاب ہوکر پہلی مرتبہ ایم پی بنیں اور کامیاب ہونے کے فوراً بعد ابھی حلف سیشن بھی نہیں ہوا تھا کہ اپنے بوائے فرینڈ نکھل جین سے شادی کی خبر وائرل کردی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد نصرت جہاں کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی نصرت جہاں نے اپنی  شادی کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نکھل جین کے ساتھ شادی کرکے بہت خوش ہوں اب اس سے صاف یہی مطلب نکلتا ہے کہ انھوں نے دین اسلام کو الوداع کھ دیا ہے اور یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا اور ویسے بھی دین اسلام ...