Posts

جب بہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں

Image
جب بَہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں تحریر: عاصم طاہر اعظمی 7860601011 9307861011 وطن عزیز کی جشنِ آزادی 15 اگست کوبڑے ہی شان و شوکت دھوم دھام سے منائی جاتی ہے،ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں خاص کر علمائے کرام کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے، ساتھ ہی ساتھ مدارس اسلامیہ بھی اس میں شانہ بشانہ شامل تھے، جنگ آزادی کی داستان بہت طویل اور انتہائی دردناک ہے جس کا احاطہ ایک چھوٹے سے مضمون میں ممکن نہیں، ہندوستان کی تحریک آزادی کی ایک سچی حقیقت یہ بھی ہے کہ علمائے کرام نے اس جنگ کو جہاد کا نام دیا تھا، 1857ء میں علمائے کرام نے جو جہاد کا فتویٰ دیا اور اس کی خوب تشہیر پورے ملک میں کی گئی جس سے پورے ملک میں آزادی کی لہر دوڑ گئی، علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں نے بھی اس جنگِ آزادی میں دل و جان سے حصہ لیا اور انتہائی درجہ کی تکلیفیں برداشت کیں اور ہزاروں علمائے کرام کو انگریزوں نے جوشِ انتقام میں پھانسی پر لٹکا دیا اور علمائے کرام نے بڑے عزم و حوصلہ سے مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو قبول کر لیا تھا،  آزادی وطن کا جذبہ اور وسیع منصوبہ  شیر میسور نامی کتا...

عید قرباں... مگر جذبہ ایثار و قربانی کا فقدان

Image
عید قرباں... مگر جذبہ ایثار و قربانی کا فقدان! تحریر: عاصم طاہر اعظمی ـــــــــــــــــــــــــــــــ اللہ جل مجدہ کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ نارِ جہنم کا ایندھن بنے اِسی لیے اس نے اپنے انبیائے کرام کے ذریعے اپنے بندوں کے لیے جنت کے راستے ہموار کیے اور ایسے ایسے عظیم اور آسان طریقے اور ذرائع مقرر کیے کہ جنہیں اپناکر انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوجاتاہے اور جنت الفردوس اس کا مقدر بن جاتی ہے، اُن طریقہ جات اور ذرائع میں سے قربانی کرنا بھی ایک ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوجاتی ہے اور اس کی دنیا و آخرت بھی سنور جاتی ہے. عید قرباں اسلام کا دوسرا عظیم تہوار ہے جو اپنی اہمیت ،فضیلت ،معنویت،اور روحا نیت  کے حوالے سے منفرد شنا خت اور خصوصیات کا حامل ہے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا عمل ایک طرف قرب خداوندی رضائے الہی اور پروردگار عالم کی خوشنودی کا با عث ہے تودوسری طرف ہر قدم پر سرفروشی، قربا نی، جاں نثاری اور صبر وشکر سے لبریز ہونے کے پیغام سے سرشار ہے، قربا نی ا...

موسمِ حج کی آمد آمد

Image
موسمِ حج کی آمد آمد تحریر :عاصم طاہر اعظمی دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں عازمین حج، حج کا ترانہ "لبیک الّلھم لبیک" پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ رہے ہیں، لاکھوں حجاج کرام  اسلام کے اس اہم رکن کی ادائیگی کے لیے دنیاوی و ظاہری زیب و زینت کو چھوڑکر اللہ تعالی کے ساتھ والہانہ محبت میں مقاماتِ مقدسہ(منی، عرفات اور مزدلفہ) پہنچ جائیں گے اور وہاں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے بتائے ہوئے طریقہ پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم(علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کی عظیم قربانیوں کے ساتھ قائم کریں گے۔      حج کو اسی لیے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں کیونکہ حاجی کے ہر عمل سے خضوع اور خشوع ظاہر ہوتا ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے عازمینِ حج! آپ تمام کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ جس مقدس سرزمین کی زیارت  اللّٰہ  تعالیٰ نے  مقدر کی ہے  یہ نبیوں  کی آماجگاہ ہے۔ اور اللّٰہ  کے  محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی با...

نصرت جہاں کی شادی سے زائرہ وسیم کی آزادی تک

Image
*نصرت جہاں کی شادی سے زائرہ وسیم کی آزادی تک* *عاصم طاہر اعظمی* فلمی دنیا میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی دومسلم اداکارہ ایک کا تعلق ریاست مغربی بنگال سے تو دوسری کا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے پچھلے کچھ دنوں سے دونوں کے تذکرے ہر خاص و عام کی زبان کی زینت بنے ہوئے ہیں اور یہ تذکرے یہیں تک نہیں بلکہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، اور سوشل میڈیا پر بھی چھائے ہوئے ہیں ہر عام و خاص اپنی اپنی ذھنیت کے مطابق دونوں اداکاروں پر کمنٹس بھی کررہے ہیں پہلی مسلم اداکارہ 29 سالہ نصرت جہاں جو ابھی لوک سبھا الیکشن میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن میں کامیاب ہوکر پہلی مرتبہ ایم پی بنیں اور کامیاب ہونے کے فوراً بعد ابھی حلف سیشن بھی نہیں ہوا تھا کہ اپنے بوائے فرینڈ نکھل جین سے شادی کی خبر وائرل کردی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد نصرت جہاں کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی نصرت جہاں نے اپنی  شادی کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نکھل جین کے ساتھ شادی کرکے بہت خوش ہوں اب اس سے صاف یہی مطلب نکلتا ہے کہ انھوں نے دین اسلام کو الوداع کھ دیا ہے اور یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا اور ویسے بھی دین اسلام ...
Image
تحریر: محمد عاصم اعظمی ریسرچ اسکالر حجة الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  رمضان المبارک برکتوں والا مہینہ ہے، اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا، رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، رمضان کی اہمیت کے بارے میں ﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد سے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا ا...
Image
*اعتکاف قربِ خداوندی کا بہترین زریعہ* تحریر! عاصم طاہر اعظمی قاسمی منجیرپٹی سرائے میر اعظم گڑھ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں، اعتکاف کی حقیقت خلوت نشینی ہے اور یہ اللہ رب العزت کا اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدُّق سے امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خصوصی لطف و احسان ہے کہ وصال حق کی وہ منزل جو اممِ سابقہ کو زندگی بھر کی مشقتوں اور بے جا ریاضتوں کے نتیجے میں بھی حاصل نہیں ہوتی تھی فقط چند روز کی خلوت نشینی سے میسر آسکتی ہے چنانچہ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان چند روز کے لئے علائق دنیوی سے کٹ کر گوشہ نشین ہوجائے ایک محدود مدت کے لئے خلوت گزیں ہو کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کرلے، اپنے من کو آلائش نفسانی سے علیحدہ کر کے اپنے خالق و مالک کے ذکر سے اپنے دل کی دنیا آباد کرلے، مخلوق سے آنکھیں بند کر کے اپنے خالق کی طرف لو لگائے ان کیفیات سے مملو ہوکر جب انسان دنیا و مافیھا سے کٹ کر صرف اپنے خالق و مالک کے ساتھ لو لگا لیتا ہے تو اس کے یہ چند ایام سالوں کی عبادت اور محنت و مشقت پر بھاری قرار پاتے ہیں،...

زکوٰۃ ایک مالی عبادت

Image
*زکوٰۃ ایک مالی عبادت* تحریر: عاصم طاہر اعظمی آپ دنیا کی کسی بھی تحریک کو دیکھ لیں کسی بھی مذہب کا مطالعہ کر لیں روٹی کا مسئلہ نہ کسی نے نظر انداز کیا نہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ غریبوں بیواؤں، یتیموں اور معذوروں کی مدد کرنے کا حکم ہر جگہ ہر ایک نے دیا اور دے رہے ہیں مگر جس طریقے سے اس مسئلے کو اسلام نے اپنایا اور جس حکمت عملی سے حل کیا ہے وہ صرف اسلام ہی کا خاصہ ہے عام طور پر دوسرے مذاہب میں ایک دوسرے کی مدد ایک اخلاقی ہدایت تک محدود رکھی گئی ہے کہ مدد کرنا چاہیے دوسرے کی مدد کرنا اچھی بات ہے، مگر یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے جو نظام حیات دیا ہے اس میں نماز جیسی اہم ترین عبادت کے بعد زکوٰۃ کی صورت میں غربت کے مسئلے کو حل کیا ہے زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا جا سکتا ہے کہ اسلام کی سب سے مقدم عبادت نماز کے بعد اسی کا نمبر ہے شب معراج کو فرض ہوئی یعنی ہجرت سے ایک سال پہلے جب کہ زکوٰۃ 2ہجری میں فرض ہوئی قرآن کریم میں نماز اور زکوٰۃ کو 82 مقامات پر ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کی نظیر کسی اور حکم میں نہیں ملتی، زکوٰۃ ادا کرنے کے چند مقاصد اور آداب ہیں جو ملحوظ رکھنے چاہئی...